سندھ میں نئے اسلحہ لائسنس پر پابندی، پہلے سے زیرِعمل کیسز کا کیا بنے گا؟
کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے نئے اسلحہ لائسنس کے اجراء پر پابندی کے بعد پہلے سے زیرِعمل درخواستوں، سمریوں، ٹوکن اور پرنٹنگ کے مراحل میں موجود لائسنسز کے حوالے سے شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے نئے اسلحہ لائسنس کے اجراء پر پابندی عائد کی گئی ہے، جس کے تحت نئی درخواستوں پر کارروائی اور نئے لائسنس جاری کرنے کا عمل تاحکمِ ثانی معطل رہے گا۔
تاہم، ذرائع کے مطابق پابندی سے قبل جن درخواست گزاروں کی سمریاں پہلے ہی تیار یا زیرِعمل تھیں، جنہیں ٹوکن جاری ہو چکے تھے، یا جن کے لائسنس پراسیسنگ، منظوری یا پرنٹنگ کے مرحلے میں پہنچ چکے تھے، ان کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ اگر پابندی کا مقصد نئے اسلحہ لائسنس کا اجراء روکنا ہے تو پہلے سے منظور شدہ یا زیرِعمل کیسز، جو پابندی سے قبل کے عمل کا حصہ تھے، ان پر کیا پالیسی لاگو ہوگی؟
سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر اسلحہ لائسنس کے حوالے سے ٹوکن، بائیومیٹرک، پولیس ویری فکیشن اور دیگر مراحل کا طریقہ کار درج ہے
